Advertisements

آج لیڈر ایسے ہیں ڈیڑھ سال نہیں ہوا جیل میں اور چلانا شروع کردیا:صدر آصف زرداری

Asif Ali Zardari Says Today’s Leaders Start Complaining After Less Than a Year and a Half in Jail
Advertisements

کبھی کہتا ہے میری آنکھ میں درد ،کبھی کہتا ہے یہاں دودھ نہیں، یہ جو اُن کی بھڑکیں ہیں وہ صرف دکھانے اور بولنے کی ہیں، یہ قربانی نہیں دے سکتے، اِن کے پاس ہمت نہیں ہے، یہ صرف باتیں کر سکتے ہیں۔

جیل 2 سال بعد حال احوال پوچھتی ہے، میں نے بھی 14 سال جیل کاٹی ہے، تکلیفیں کاٹی ہیں لیکن ہمت نہیں ہاری , صدر مملکت کاصادق آباد میں خطاب

Advertisements

صادق آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھڑکیں لگانے والے جیلوں میں جا کر قربانی نہیں دے سکتے۔ پنجاب کے علاقے صادق آباد میں خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لیڈر کا کام ہے لڑنا اور جیلوں میں جانا، پارٹی کو بچانا عوام کو بچا کر رکھنا، آج لیڈر ایسے ہیں ڈیڑھ سال نہیں ہوا جیل میں اور چلانا شروع کردیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کبھی کہتا ہے میری آنکھ میں درد ،کبھی کہتا ہے یہاں دودھ نہیں، یہ جو اُن کی بھڑکیں ہیں وہ صرف دکھانے اور بولنے کی ہیں، یہ قربانی نہیں دے سکتے، اِن کے پاس ہمت نہیں ہے، یہ صرف باتیں کر سکتے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ لوگ صرف پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، میں نے حامد میر کے پروگرام میں کہا تھا، جیل 2 سال بعد حال احوال پوچھتی ہے، میں نے بھی 14 سال جیل کاٹی ہے، تکلیفیں کاٹی ہیں لیکن ہمت نہیں ہاری۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ جیلوں میں عبادت کرنی چاہیے ، جیلوں میں جا کر عبادت ہوتی ہے، جیل میں عبادت کرنے والے کی دُعا قبول ہوتی ہے اس لئے کسی بھی سیاسی کارکن کی گرفتاری نہیں کی, کہیں وہ بددُعا نہ دیدے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ پاکستان کو بنا کر، سنوار کر جاؤں گا، اِس سے پہلے میں نہیں جاؤں گا، پیپلز پارٹی ایک دن 2 تہائی اکثریت سے کامیاب ہوگئی اور بلاول کو وزیر اعظم بنائیں گے، ملک لوگوں سے بنتا ہے ،عوام سے بنتا ہے۔