Advertisements

الخدمت فاﺅنڈیشن بہاول پور ۔ خواب سے تعبیر تک

Alkhidmat Foundation Logo
Advertisements

تحریر۔ محمد اقبال عباسی

بہاول پور ڈویژن کا ایک وسیع و عریض رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جسے مقامی زبان میں روہی اور چولستان کہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عظیم صوفی بزرگ اور شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؓ کی شاعری کے اس حسین ریگ زار کا کل رقبہ لگ بھگ 4658760لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہے ، اس رقبے میں وہ رقبہ شامل نہیں ہے جس میں نہری نظام ہونے کی وجہ سے آباد کر لیا گیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے بعد بہا ول پور کو نہری پانی سے یوں محروم رکھا گیا کہ وہ رابطہ نہر ہی نہ بنائی گئی جس کے لئے اقوام متحدہ نے رقم بھی مختص کر دی تھی۔ تریموں اسلام لنک کینال دراصل واحد رابطہ نہر تھی جس سے ہیڈ اسلام سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کیا جانا تھا۔ انٹرنیشنل بنک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ بنک کی 18 اپریل 1960 ءکی ایک رپورٹ کے صفحہ نمبر 4 کے مطابق تریموں اسلام لنک کینال کی مجوزہ گنجائش 11000 کیوسک ہو گی جو دریائے جہلم /چناب کا پانی تریموں کے مقام سے لے کر دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر ڈالتی، اس کینال کی کل مجوزہ لمبائی 106 میل تھی۔ تریموں اسلام لنک کینال کے تعمیر نہ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آج تک بہاول پور ڈویژن کا بہت بڑا رقبہ ریت اڑاتے ٹیلوں پر مشتمل ہے جو کہ ہماری کوتاہیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

Advertisements

سات سو کلومیٹر کی پٹی پر محیط چولستان اونٹ ، بھیڑ، بکری، گائے کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔یہ صحرائی علاقہ چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی اور 3 اضلاع ضلع رحیم یارخان، بہاول پور، بہاول نگر کے علاوہ سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ چولستان کی انسانی آبادی 325000 نفوس سے زائد پر مشتمل ہے ،جن میں زیادہ تر خانہ بدوش اور چرواہے جن کا ذریعہ آمدنی جانورہی ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق روہی میں 20 لاکھ سے زائد مویشی پائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بارش نہ ہونے اور زیر زمین پانی کڑوا ہونے کی وجہ سے قابل استعمال نہیں ہے اور نہ ہی انسان اس کو پی سکتے ہیں ۔ پورے چولستان میں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ وہ نشیبی تالاب ہیں جن میں بارش کا پانی ذخیرہ ہوتا ہے ۔ ان تالاب کو مقامی زبان میں ٹوبہ کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ٹوبے ایسے بھی ہیں جن کو استعمال کی خاطر مختلف برادریوں اور قبائل نے اپنی ذاتی دلچسپی سے کھود کر تعمیر کیا ہے ، ان تالابوں کے علاوہ سیکڑوں فٹ گہرے کنویں بھی پینے کے پانی کی ضروریات کوی تکمیل کر رہے ہیں جنہیں کنڈ کہا جاتا ہے ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق ، گو پورے چولستان میں ہزاروں کنڈ اور ٹوبہ جات موجود ہیں لیکن 700تا 1100ٹوبہ جات اور 80تا 125کنڈ ایسے ہیں ، جو انسانوں اور جانوروں کی ایک وسیع تعداد کے لئے پینے کے پانی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ دنیا کے تمام صحراﺅں کی طرح چولستان میں بھی سالانہ 5انچ سے کم بارش ہوتی ہے ،اس لئے جیسے ہی موسم گرما شدت اختیار کرتا ہے ۔ مقامی ٹوبہ جات خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پورے چولستان میں قحط سالی شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں جانور ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ تقسیم سے لے کر آج تک کوئی بھی حکومت یہاں کوئی ایسا قابل ذکر پراجیکٹ یا پروگرام شروع نہیں کر سکی جس کی بنا پر روہی کے باشندوں کو صحت ، تعلیم اور صاف پانی جیسی سہولت فراہم کی جا سکے ۔ گو چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس سلسلے میں کافی سرگرم ہے لیکن سیاسی ناانصافی اور نا اہلی کی بنا پر کسی بھی این جی او کو تصویر کشی کے علاوہ ابھی تک چولستانی عوام کے دکھ دور کرنے کا خیال نہیں آیا ماسوائے الخدمت فاﺅنڈیشن بہا ول پور کے کرتا دھرتا افراد کی یگانہ روز محنت کے ، جن کی لگن اور ان تھک مساعی کی بدولت چولستانی عوام کو ایک چھت تلے تعلیم ، صحت اور انسانی اور جانوروں کے استعمال کے لئے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے 150اضلاع میں اس کے لاکھوں رضاکار پوری تندہی سے دن رات غریب ، مستحق اور مجبور افراد کی امداد میں مصروف عمل ہیں ۔ ملک میں آنے والی آفات کے دوران بھی الخڈمت فائنڈیشن بہاول پور کے منتظمین بلا تفریق شریک ہوتے ہیں ۔یاد رہے کہ2021ءمیں چولستان میں آنے والی شدید خشک سالی کے دوران ہی الخدمت فاﺅنڈیشن نے اپنے منصوبے کا آغاز کر دیا ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ناگرہ ٹوبہ تحصیل یزمان کے مقام پر ایک مرکزی دفتر بنایا جا چکا ہے ۔ اس کیمپ میں صاف پانی کا پلانٹ ، ایک مسجد ، جانوروں کے پینے کے لئے 100فٹ طویل ایک لمبا کھال تعمیر ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ 8 سولر پینل پر مشتمل 2انچ کا ایک سولر مرسیبل پمپ بھی لگایا جا چکا ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں مقامی افراد کی صحت کے لئے ایک ڈسپنسری کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک کے لئے بھی ایک ڈاکٹراور دسپنسری کی سہولت کے لئے عمارت تعمیر ہو چکی ہے ۔ اس مرکزی عمارت کے علاوہ بھی تین مختلف مقامات پر الخدمت فاﺅنڈیشن کے رضاکار اپنی مد د آپ کے تحت ٹھنڈی کھوئی ، ٹوبہ وزیر والا اور ٹوبہ چلہ والا کے مقامات پر نہ صرف عمارات تعمیر کر رہے ہیں بلکہ انسانوں اور جانوروں کی صحت کے لئے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں ۔خیر پور ٹامیوالی کی تحصیل میں ٹوبہ چلہ والا کے پاس بھی الخدمت نے اپنا ایک کمیونٹی سنٹر تعمیر کر رہے ہیں جو اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ ان مراکز کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ کانفرنس روم کے ساتھ ساتھ ایک مسجد اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک گوپا بھی تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والے سیاح بھی ان مراکز کی خوبصورتی سے حظ اٹھائیں۔ یاد رہے کہ تمام مجوزہ مراکز پر سولر مرسیبل پمپ کے علاوہ آر۔ او ،واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے تاکہ مقامی آبادی کو صاف اور کثافت سے پاک پانی مہیا کیا جائے ، جس کو پینے سے نہ صرف وہ گردے ، معدے کی بیماری سے محفوظ رہیں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہیپا ٹائٹس جیسی موذی بیماری سے بھی پاک ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ چولستان میں تعمیر ہونے والے ان کمیونٹی مراکز کے تمام اخراجات مقامی عطیات سے پورے کئے گئے ہیں ۔عطیہ کنندگان کی رقوم کا باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے اور اخراجات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جاتا ہے تا کہ احتساب اور شفافیت کا معیار قائم کیا جائے ۔امید واثق ہے کہ تمام احباب دل کھول کر الخدمت کا ساتھ دیں گے تاکہ یہ چولستان کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات ایک کر سکے اور حضرت خواجہ غلام فرید کا ©”جھوکاں تھیسن آباد ول “ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے اور چولستانی بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔