مصنوعی ذہانت اور صحافت: ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز اینڈ پبلشرز (وان اِفرا) کانگریس، مارسے
صنوعی ذہانت نے سوشل میڈیا کے عروج کے بعد صحافتی صنعت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے پبلشرز اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ، اینتھروپک اور پرپلیکسٹی جیسی کمپنیوں سے نمٹنے کے معاملے میں تقسیم ہیں — کچھ عدالتوں کا رخ کر رہے ہیں تو کچھ لائسنسنگ معاہدے کر رہے ہیں۔
تنازعے کی جڑ: مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کاپی رائٹ شدہ صحافتی مواد سمیت بے پناہ آن لائن مواد پر بغیر معاوضے کے تربیت پاتے ہیں۔ پبلشرز کا مؤقف ہے کہ یہ برسوں کی محنت مفت میں استعمال کرنا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق وہ مواد نقل نہیں کرتیں بلکہ نمونے سیکھتی ہیں، اور بعض جگہ یہ منصفانہ استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ ابھی کوئی عالمی قانونی معیار موجود نہیں۔
مقدمات بمقابلہ لائسنسنگ: کچھ پبلشرز معاوضے اور قانونی وضاحت کے لیے مقدمہ کر رہے ہیں۔ دیگر لائسنسنگ معاہدوں کے ذریعے کمپنیوں کو معاوضے، تکنیکی معاونت یا حوالہ جاتی وعدوں کے بدلے مواد تک رسائی دے رہے ہیں۔
صحافت اور قارئین پر اثرات: مفت استعمال سے پبلشرز کی آمدنی اور رپورٹنگ کی فنڈنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خودکار خلاصے سرچ اور چیٹ ٹولز میں بڑھ رہے ہیں، جس سے درستگی اور حوالہ جاتی خدشات جنم لے رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا: کئی ممالک کی عدالتیں اہم مقدمات پر غور کر رہی ہیں، جبکہ مزید پبلشرز کمرشل معاہدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ادارتی نوٹ: احسان احمد سحر، پبلشر و ایڈیٹر اِن چیف، ڈیجیٹل نوائے احمد پور شرقیہ، جون 2007ء میں کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز کانگریس اور اکتوبر 2010ء میں ہیمبرگ، جرمنی میں ورلڈ ایڈیٹرز فورم میں شریک ہوئے۔ 2009ء میں انہیں ہندوستانی نیوز پیپرز سوسائٹی کی تحریری درخواست کے باوجود، حیدرآباد دکن میں منعقدہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز اینڈ پبلشرز کانگریس کے لیے بھارتی حکومت نے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور معروف پاکستانی انگریزی روزنامہ ڈان 2009ء میں وان اِفرا کے رکن بنے

