احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ: ایک تاریخی حق اور عوامی ضرورت
اداریہ —– 21 جون 2026
احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ محض ایک انتظامی تبدیلی کا تقاضا نہیں بلکہ یہ اس خطے کے عوام کا دیرینہ حق اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس مطالبے کے حق میں روز بروز حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرے کے مختلف طبقات اس قومی اہمیت کے مسئلے پر متفق نظر آتے ہیں۔
احمد پور ضلع بناؤ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ملک فیاض محمود اعوان ایڈووکیٹ، جو پرنس بہاول عباس خان عباسی کے ترجمان بھی ہیں، اس عوامی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل وکلا، تاجروں، صحافیوں، دانشوروں، سیاسی و سماجی شخصیات اور دیگر مکاتب فکر کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے اس مطالبے کے لیے مؤثر رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔
ان کی کاوشوں کے نتیجے میں بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور نے اپنے الگ الگ اجلاسوں میں متفقہ قراردادیں منظور کرتے ہوئے احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل بار ایسوسی ایشن احمد پور شرقیہ اور احمد پور یونین آف جرنلسٹس ورکرز نے بھی اپنی قراردادوں کے ذریعے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے انتخابی دورۂ احمد پور شرقیہ کے دوران کیے گئے اعلان کو عملی جامہ پہنائیں۔ احمد پور یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے اجلاس کی صدارت اس کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ احسان احمد سحر نے کی تھی۔
تاریخی اعتبار سے احمد پور شرقیہ کو منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ سابق ریاست بہاولپور کے عباسی حکمرانوں کی رہائش گاہ رہا ہے اور ریاست کے سیاسی، انتظامی اور ثقافتی امور میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ ریاست بہاولپور کی تاریخ، روایات اور تہذیبی ورثے میں احمد پور شرقیہ کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہی تاریخی پس منظر آج بھی اس شہر کو جنوبی پنجاب کے اہم ترین مراکز میں شمار کراتا ہے۔
احمد پور شرقیہ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے پنجاب کی بڑی تحصیلوں میں شامل ہے۔ وسیع زرعی اراضی، نمایاں زرعی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں اور محصولات کی مد میں اس خطے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ قومی شاہراہ پر واقع ہونے اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے والے اہم مرکز کی حیثیت رکھنے کے باعث اس کی انتظامی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ آبادی اور سرکاری محصولات کے لحاظ سے بھی یہ خطہ ضلع بننے کی تمام تر اہلیت رکھتا ہے۔
آج بھی عوام کو متعدد سرکاری امور، عدالتی معاملات اور انتظامی خدمات کے حصول کے لیے بہاولپور جانا پڑتا ہے جس سے وقت، وسائل اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔ اگر احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ دیا جائے تو عوام کو سرکاری سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صحت، تعلیم، امن و امان اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ احمد پور شرقیہ کو ضلع بنانے کا مطالبہ کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ آواز بن چکا ہے۔ وکلا، تاجر برادری، صحافتی تنظیمیں، سماجی شخصیات اور عوامی نمائندے اس مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی متفقہ قراردادیں اس مطالبے کی اہمیت اور عوامی حمایت کا واضح ثبوت ہیں۔
حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی امنگوں اور اپنے کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ دینے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔ یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ لاکھوں عوام کی سہولت، خطے کی متوازن ترقی اور تاریخی اہمیت کے اعتراف کا تقاضا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ احمد پور شرقیہ کو اس کا جائز، تاریخی اور آئینی حق دیا جائے اور اسے ضلع کا درجہ دے کر جنوبی پنجاب کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قائم کیا جائے۔

