Advertisements

خلافتِ عباسیہ کے حقیقی بانی ابو جعفر منصور العباسی تھے، شہرِ بغداد بھی انہی کا قائم کردہ ہےصاحبزادہ محمد عمرعباسی

“Abu Ja’far Al-Mansur Al-Abbasi Was the True Founder of the Abbasid Caliphate; the City of Baghdad Was Also Established by Him,” Says Sahibzada Muhammad Umar Abbasi
Advertisements

انجمن اتحادعباسیہ  انٹرنیشنل کے مرکزی سینئر نائب صدر کا خلافت عباسیہ ابو جعفرمنصورالعباسی کی 1289 برسی کے موقع پرمیڈیا کو جاری بیان

احمدپورشرقیہ(سٹاف رپورٹر). اسلامی تاریخ میں خلافتِ عباسیہ کو ایک عظیم الشان سیاسی، علمی اور تہذیبی انقلاب کی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ خلافتِ عباسیہ کا باقاعدہ قیام* *سن 132 ہجری* میں حضرت ابو العباس السفاح کے ہاتھوں عمل میں آیا، تاہم اس عظیم سلطنت کو حقیقی بنیادوں پر مستحکم کرنے، اسے ایک منظم عالمی طاقت بنانے اور اسلامی دنیا میں اس کے دوام کو یقینی بنانے کا اصل سہرا دوسرے عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور العباسی کے سر جاتا ہے۔ تاریخ کے اکثر محققین اس امر پر متفق ہیں کہ عباسی سلطنت کے حقیقی معمار اور تنظیم ساز منصور عباسی ہی تھے۔

Advertisements

انجمن اتحادعباسیہ انٹرنیشنل  کے مرکزی ممتازومعروف سیاسی وسماجی رہنماصاحبزادہ محمد عمر  عباسی، نے خلافت عباسیہ  کے* *بانی ومعمارابوجعفرمنصورالعباسی* کی *1289ویں برسی* کے موقع پرمیڈیاکوجاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ابو جعفر منصور نے نہ صرف عباسی حکومت کو سیاسی استحکام عطا کیا بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کو ایک نئی جہت بھی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر منصور عباسی کی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور علمی سرپرستی نہ ہوتی تو شاید خلافتِ عباسیہ اتنی مضبوط اور دیرپا نہ بن پاتی۔

انہوں نے کہا کہ ابو العباس السفاح کے دور میں بنو امیہ کے خلاف کامیابی تو حاصل ہوگئی تھی، مگر سلطنت داخلی خلفشار، بغاوتوں اور مالی مشکلات کا شکار تھی۔ ایسے نازک دور میں ابو جعفر منصور نے اقتدار سنبھالا اور انتہائی حکمت و تدبر سے نہ صرف باغیوں کا خاتمہ کیا بلکہ ریاستی نظم و نسق کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو مستحکم کیا، صوبائی نظام کو منظم بنایا اور فوجی طاقت کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔

صاحبزادہ محمد عمرعباسی نے کہا کہ ابو جعفر منصور کی سب سے بڑی تاریخی خدمت شہرِ بغداد کا قیام ہے۔ انہوں نے دریائے دجلہ کے کنارے ایک ایسے عظیم شہر کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں دنیا کا سب سے بڑا علمی، سیاسی اور ثقافتی مرکز بن گیا۔ بغداد کو “مدینۃ السلام” بھی کہا جاتا تھا۔ یہی شہر بعد میں اسلامی علوم، فلسفہ، طب، فلکیات، ادب اور سائنسی تحقیقات کا عالمی مرکز بن گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بغداد کی تعمیر محض ایک دارالحکومت کی تعمیر نہیں تھی بلکہ یہ ایک عظیم تہذیبی منصوبہ تھا۔ منصور عباسی نے شہر کی منصوبہ بندی نہایت اعلیٰ طرز پر کروائی۔ گولائی میں تعمیر ہونے والا بغداد اپنے وقت کا ایک منفرد شہر تھا جہاں شاہی محل، عظیم مساجد، بازار، کتب خانے اور علمی مراکز قائم کیے گئے۔ بعد کے ادوار میں یہی بغداد اسلامی سنہری دور کی علامت بن گیا۔

صاحبزادہ محمد عمر عباسی نے کہا کہ ابو جعفر منصور علم و دانش کے بھی بے حد قدر دان تھے۔ انہوں نے مختلف علوم کے ماہرین، فقہاء، محدثین اور مترجمین کی سرپرستی کی۔ ان کے دور میں علمی تراجم کی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد میں “بیت الحکمت” جیسے عظیم علمی ادارے کی صورت اختیار کی۔ یونانی، فارسی اور سنسکرت علوم کے تراجم نے اسلامی دنیا میں علمی بیداری پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ منصور عباسی ایک باوقار، معاملہ فہم اور دوراندیش حکمران تھے۔ اگرچہ وہ سخت گیر منتظم سمجھے جاتے تھے لیکن ان کی یہی سختی ریاستی استحکام کا سبب بنی۔ انہوں نے مالی نظم و ضبط قائم کیا، بیت المال کو مضبوط کیا اور ریاستی وسائل کو عوامی و حکومتی فلاح کے لیے استعمال کیا۔

 انجمن اتحادعباسیہ انٹرنیشنل کے مرکزی سینئر نائب صدر نے کہا کہ آج کی مسلم دنیا کو ابو جعفر منصور جیسے مدبر، منتظم اور علم دوست حکمرانوں کی تاریخ سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب کی عظمت محض عسکری قوت میں نہیں بلکہ علم، عدل، نظم و نسق اور تہذیبی ترقی میں پوشیدہ ہے، اور ابو جعفر منصور اس کی روشن مثال تھے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ خلافتِ عباسیہ کا سنہرا باب آج بھی مسلم دنیا کے لیے باعثِ فخر ہے اور ابو جعفر منصور کا کردار اسلامی تاریخ میں ہمیشہ ایک عظیم مدبر، ریاست ساز اور شہرِ بغداد کے بانی کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔