نیا سال، نئی امیدیں: 2026 اور پاکستانی عوام کا اعتماد
اداریہ —– یکم جنوری 2026
نئے سال کی آمد ہمیشہ امید، تجدید اور مستقبل سے وابستہ توقعات کا پیغام لے کر آتی ہے۔ یکم جنوری 2026 کے موقع پر گیلپ پاکستان کا تازہ سروے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ تمام تر معاشی، سماجی اور سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستانی عوام کی اکثریت مایوسی کے بجائے امید کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ نصف سے زائد پاکستانیوں کا 2026 کو معاشی بہتری کا سال قرار دینا ایک مثبت اور حوصلہ افزا اشارہ ہے، جو اجتماعی سوچ میں بتدریج تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے کے مطابق عالمی سطح پر جہاں صرف 37 فیصد افراد نئے سال میں بہتری کے لیے پُرامید ہیں، وہیں پاکستان میں یہ شرح 51 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ فرق اس امر کا غماز ہے کہ پاکستانی عوام نے مسلسل مشکلات کے باوجود مستقبل پر اعتماد کھونا نہیں سیکھا۔ خاص طور پر معاشی حالات کے حوالے سے امید میں اضافہ قابلِ توجہ ہے۔ 2024 میں 43 فیصد، 2025 میں 53 فیصد اور اب 2026 کے لیے بڑی تعداد میں شہریوں کا معاشی بہتری کی توقع رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام پالیسیوں، معاشی سمت اور ممکنہ اصلاحات سے کسی نہ کسی درجے میں مثبت نتائج کی امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ 52 فیصد پاکستانی نئے سال میں ایک پُرامن دنیا کے خواہاں اور اس کے لیے پُرامید ہیں۔ اگرچہ 21 فیصد افراد نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن مجموعی طور پر امن کے خواب دیکھنے والے پاکستانیوں کی شرح بھارت اور عالمی اوسط سے دگنی ہونا اس ملک کے عوامی مزاج اور امن پسندی کا ثبوت ہے۔ یہ سوچ پاکستان کے لیے ایک اخلاقی سرمایہ ہے، جسے داخلی و خارجی پالیسی میں مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
تاہم امید کے اس اظہار کو محض ایک جذباتی ردعمل سمجھ کر نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ عوامی توقعات کے ساتھ حکومتی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ معاشی بہتری کے وعدے، روزگار کے مواقع، مہنگائی میں کمی اور سماجی انصاف وہ عملی اقدامات ہیں جن کے بغیر امیدیں جلد مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ اسی طرح عالمی اور علاقائی امن کے لیے بھی محض خواہش کافی نہیں، بلکہ مستقل، سنجیدہ اور ذمہ دار سفارت کاری ناگزیر ہے۔
نیا سال اس بات کا متقاضی ہے کہ عوام کی اس امید کو عملی پالیسیوں اور شفاف اقدامات کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔ اگر 2026 واقعی معاشی بہتری اور امن کی جانب پیش رفت کا سال بننا ہے تو ریاستی اداروں، حکومت اور پالیسی سازوں کو اس عوامی اعتماد کو ایک امانت سمجھتے ہوئے ٹھوس نتائج دینا ہوں گے۔ امید ایک قیمتی سرمایہ ہے، اور یہی سرمایہ قوموں کو بحرانوں سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

