بانوے نیوز کی صحافی اقصیٰ خالد نے ساتھی صحافی عدیل کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کرا دیا
نیوز روم میں ہراسانی کا معاملہ: 92 نیوز کی صحافی اقصیٰ خالد قانونی کارروائی کے لیے میدان میں آگئیں
اسلام آباد: نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے اسلام آباد آفس سے وابستہ سینئر خاتون صحافی اقصیٰ خالد نے اپنے ساتھی صحافی عدیل کے خلاف مبینہ ہراسانی، دھمکیوں اور بدسلوکی کے الزام میں پولیس میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اقصیٰ خالد نے اسلام آباد کے آبپارہ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم عدیل نے منگنی ختم ہونے کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کرنا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
خاتون صحافی کے مطابق ان کے اہل خانہ نے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود ملزم کی جانب سے رابطے اور ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا – ایف آئی آر کے مطابق 26 فروری کو صورتحال اس وقت سنگین ہوگئی جب ملزم مبینہ طور پر اسلام آباد میں 92 نیوز کے دفتر پہنچ گیا اور اقصیٰ خالد سے بدتمیزی کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ خاتون صحافی کے مطابق اس واقعے کے بعد وہ ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہو گئیں
واقعے کے بعد اقصیٰ خالد نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کی جس پر پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور ملزم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ فون کالز کا جواب نہیں دے سکا۔ بعد ازاں پولیس نے خاتون صحافی کو باضابطہ شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا جس کے بعد آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب صحافی زاہدہ راؤ نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایف آئی آر کی کاپی شیئر کرتے ہوئے نیوز رومز میں خواتین صحافیوں کو درپیش ہراسانی کے مسائل کو اجاگر کیا خبر لکھے جانے تک نہ تو ملزم عدیل کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی 92 نیوز کی انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔ تاہم صحافتی حلقوں میں اس واقعے نے میڈیا اداروں میں خواتین صحافیوں کے تحفظ اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے


