٢٥ فروری – اردو زبان کا قومی دن

تحریر: شگفتہ نعیم ہاشمی
بارہا یہ بحث نظر سے گزری کہ جب اردو ہماری قومی اور دفتری زبان ہے تو اسے مکمل طور پر رائج کیوں نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں دوسرے ممالک کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں تعلیم ان کی مقامی زبان میں دی جاتی ہے ہم نے اپنی زبان کو وہ مقام نہیں دیا جو دوسری قوموں نے اپنی اپنی زبان کو دیا۔ ہم انگریزی کے دلدادہ ہیں ہم ذہنی طور پر انگریز کی غلامی سے نہیں نکلے وغیرہ وغیرہ ۔
زبان اور تعلیم کو علیحدہ علیحدہ رکھنا چاہئے۔
اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مقصد میرے نزدیک یہ تھا کہ ہم بحیثیت قوم جب مختلف علاقوں اور صوبوں میں جائیں تو ایک دوسرے سے بات کر سکیں آپ کو معلوم ہے پاکستان میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں اب میں لاہور سے ہوں مجھے پنجابی اردو سرائیکی اور گزارے لائق انگلش آتی ہے۔ مجھے سندھی پشتو بلوچی ہندکو اور کئی زبانیں نہیں آتیں ۔تو زبان چونکہ بیسک سورس آف کمیونیکشن ہوتی ہے لہذا انتہائی ضروری ہے کہ ایک زبان ایسی ہو جو سب سمجھ سکیں ۔
جیسے دنیا میں آپ کہیں چلے جائیں انگریزی بولنے سے آپ اپنا مدعا سمجھا لیتے ہیں۔ سوائے اٹلی کے۔
تو اردو پہ کوئی بحث نہیں بنتی ہماری قومی زبان ہے اس خطے کی زبان ہے اس کو زندہ رکھنے کے لیے اس کو فروغ دینے کے لیے بہت سے فورم ہیں اور ہونا بھی چاہئیں۔ ایک زبان کسی ملک میں قومی یکجہتی کی علامت ہوتی ہے۔
لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اردو قومی زبان ہے بین الاقوامی زبان نہیں ہے۔ جو مضامین ہم نے نہیں لکھے انگریز نے لکھے ہیں جب ہم ان کا اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں تو وہ ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔ چلئے اگر ہم انھیں سمجھ بھی لیں تو ہم دنیا کے ساتھ کاروبار اور لین دین کے وقت اپنی بات ان تک کیسے پہنچائیں گے اور ان کی بات ہمیں کیسے سمجھ آئے گی۔ جہاں تک حکومتی عہدیداروں کی بات ہے تو وہ مترجم کی مدد سے بات کر سکتے مگر بینک کاروباری ادارے درس گاہیں ہر کسی کو ہر وقت ہر میٹنگ میں مترجم کی ضرورت ہوگی۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ‘ علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے’
ظاہر ہے چین جا کے چین کی زبان بھی سیکھنا لازمی ہے۔ یا پھر کوئی ایسی زبان جو دونوں باشندے سمجھ سکیں۔
تقسیم برصغیر پاک و ہند سے پہلے بھی یہی المیہ تھا جو اس خطے کے لوگوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ بنا، ہندو نے انگریزی زبان پر عبور حاصل کر کے انگریز سرکار سے اعلی اعلی عہدے حاصل کر کے اپنی قوم کو فائدہ پہنچایا جبکہ مسلمان اس بحث میں رہ گئے انگریزی پڑھنا حلال ہے یا حرام ہے۔
اردو کی تکریم اپنی جگہ، اردو کے فروغ کے لیے اردو کے مضمون کو اختیاری نہیں لازمی قرار دینا چاہئے، پرائمری سطح پر تو اردو لازمی بلکہ میٹرک کی سطح تک لازمی ہے ، اس کے بعد اسے اختیاری کر دیا گیا ہے۔
اردو زبان ہمیشہ زندہ رہے گی جب تک اخبارات چھپ رہے کتب لکھی جا رہی ہیں ۔شاعری کی جا رہی ہے غالب ، میر ، درد، فیض احمد فیض۔ امیر خسرو۔ علامہ اقبال ، داغ دہلوی( اور ان گنت شعرا و مصنف ) کے چاہنے والے زندہ ہیں۔
اگر ہم طبیعیات کیمسٹری حساب معاشیات بیالوجی جیسے مضامین کسی بین الاقوامی زبان میں پڑھتے ہیں تو اس میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے اگر ہم اکیسویں صدی میں اٹھارویں صدی کا رویہ رکھیں گے تو پھر ہم اٹھارویں صدی میں ہی چلے جائیں گے۔
اردو کو رائج کیا جائے یا نہ کیا جائے اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ فرق ڈالنے کیلئے ہمیں اردو سے محبت کرنا پڑے گی اور محبت کے لئے اس زبان کی ترویج کے لئے طریقے تلاشنے پڑیں گے، شعر و ادب کی محافل بپا کرنی پڑیں گی، اردو کے اساتذہ کی تکریم کرنی پڑے گی۔ درسگاہوں میں اردو کے اساتذہ کو مقام دینا پڑے گا اور اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے والے سے معاندانہ رویہ ترک کرنا پڑے گا