سیرت چیئر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام 11 ویں بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر
تین روزہ کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب، شام ، اردن ، فلسطین ، قطر،کویت اور مراکش سے آئے ہوئے مندوبین نے شرکت کی
بہاولپور: سیرت چیئر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام 11 ویں بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ اس تین روزہ کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب، شام ، اردن ، فلسطین ، قطر،کویت اور مراکش سے آئے ہوئے مندوبین نے شرکت کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر حاجی حبیب الرحمن کتھوریا کراچی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز الاحم قصیم یونیورسٹی سعودی عرب، ڈاکٹر عزیز البطیوی قطر یونیورسٹی قطر، ڈاکٹر فیصل بن سید محمد القلاف کویت یونیورسٹی کویت، پروفیسر ڈاکٹر ہدایت اللہ احمد الشاش سعودی عرب نے کلیدی خطبات پیش کیے۔
ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عربیک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے فوکل پرسن پروفیسر ڈاکٹر حافظ شفیق الرحمن نے کانفرنس کی سفارشات پیش کیں۔
گیارہویں بین الا قوامی سیرت النبی صلی ٹیم کی مجوزہ سفارشات میں سیرت النبی ﷺ سے متعلق خواتین کی الگ اور مستقل کا نفرنس منعقد کی جائے۔سیرت نبوی ﷺ کو حقوق و فرائض کے توازن کا بنیادی ماخذ قرار دیتے ہوئے جدید سماجی، قانونی اور اخلاقی مباحث میں اسے بطور فکری فریم ورک اختیار کیا جائے۔جامعات اور دینی اداروں میں "حقوق و فرائض اسٹڈیز ” کے عنوان سے بین الشعبہ جاتی (Interdisciplinary) تحقیقی پروگرامر متعارف کرائے جائیں جن کی اساس سیرت طیبہ ﷺہو ۔جدید انسانی حقوق کا سیرت نبوی ﷺکی روشنی میں تنقیدی و تقابلی مطالعہ فروغ دیا جائے تا کہ ایک طرفہ حق پسندی کے نقصانات واضح ہو سکیں۔تعلیمی نصاب (اسکول، کالج، یونیورسٹی) میں حقوق کے ساتھ فرائض کی تربیت کو متوازن انداز میں شامل کیا جائے، بالخصوص سیرت رسولﷺ کی عملی مثالوں کے ذریعے۔مسلم معاشروں میں پائے جانے والے سماجی تضادات ( خاندانی انتشار ، طبقاتی کشمکش ، عدم برداشت) کے حل کے لیے سیرت نبوی ﷺپرمبنی سماجی ماڈلز تیار کیے جائیں۔ ریاستی سطح پر قانون سازی اور پالیسی سازی میں حقوق و فرائض کے باہمی توازن کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی فکری روایت سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ علماء، خطباء اور دینی قائدین کو ترغیب دی جائے کہ وہ خطبات اور دروس میں حقوق کے ساتھ فرائض کی اہمیت کو یکساں طور پر اجاگر کریں۔ خواتین، بچوں، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے معاشرتی فرائض کو بھی سیرت نبوی ﷺ کے تناظر میں واضح کیاجائے۔
میڈیا( الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل ) کے لیے سیرت پر مبنی اخلاقی ضابطہ کردار مرتب کیا جائے تا کہ سماجی ذمہ داری کا شعور اجاگر ہو ۔ نوجوان نسل میں فرد اور معاشرے کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے سیرت النبیﷺ پر مبنی کردار سازی پروگرامز منعقد کیے جائیں۔ بین الا قوامی سطح پر اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کے ازالے کے لیے حقوق و فرائض کے اسلامی تصور کو علم و تحقیقی زبان میں پیش کیا جائے۔اسلامی تاریخ اور سیرت کے مستند مصادر کی روشنی میں عملی کیس اسٹڈیز تیار کی جائیں جو عصر حاضر کے مسائل کا حل پیش کریں۔عالمی سطح پر بین المذاہب مکالمہ میں سیرت نبویﷺ کے تصور ذمہ داری اور باہمی احترام کو بطور مشترک انسانی قدر پیش کیا جائے۔ معاشی انصاف، امانت، دیانت اور سماجی ذمہ داری کے موضوعات پر سیرت النبیﷺ کی روشنی میں جدید تحقیقی منصوبے شروع کیے جائیں۔ اس کا نفرنس کی تحقیقات اور سفارشات کو بین الا قومی تحقیقی جرائد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع کیا جائے تا کہ عالی علمی حلقوں تک رسائی ہو۔سیرت چیئر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے تحت مستقل سیرت ریسرچ فورم قائم کیا جائے جو سال بھر تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھے۔اسلامی ممالک کی جامعات کے مابین سیرت نبوی ﷺپر مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔ معاشرتی اصلاح کے لیے سیرت نبوی ﷺکو محض نظریاتی نہیں بلکہ قابل نفاذ عملی نظام کے طور پر پیش کیا جائے ۔

